Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu

Ghzalyat e Mir

میں آگے نہ تھا دیدۂ پر آب سے واقف

پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف

پتھر تو بہت لڑکوں کے کھائے ہیں ولیکن

ہم اب بھی جنوں کے نہیں آداب سے واقف

ہم ننگ خلائق یہ عجب ہے کہ نہیں ہیں

اس عالم اسباب میں اسباب سے واقف

شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی

جوں دیدۂ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف

بل کھائے انھیں بالوں کو ہم جانیں ہیں یا میرؔ

ہیں پیچ و غم و رنج و تب و تاب سے واقف

Leave a Reply