Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا

قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر

جو ہماری خاک پر سے ہوکے گذرا رو گیا

کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں

کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جوگیا

مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں

ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا

میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ

جب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا

Leave a Reply