Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature

Ghazalyat e Mir

اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا

غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا

موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں

کب درمیاں سے وعدۂ دیدار جائے گا

چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا

بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا

دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو

جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا

آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا

زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا

باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا

لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا

تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب

اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا

آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر

کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا

کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میرؔ

اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا

Leave a Reply