Classic,  Literature

Ghazalyat e Ghalib

حُسن مہ گرچہ بہنگامِ کمال اچھاہے

اُس سے میرا مہ خورشید جمال اچھاہے

بوسہ دیتے ہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھاہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھاہے

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھاہے

دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھاہے

اُن کے دیکھے سے جو آجاتی ہے رونق منہ پر

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا

جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھاہے

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے

کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مال اچھاہے

خضرِ سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز

شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھاہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھاہے

Leave a Reply