Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghzalyat e Mir

بھلا ہو گا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہو گا

مآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہو گا

تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہو گا

وہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہو گا

کسو کو شوق یارب بیش اس سے اور کیا ہو گا

قلم ہاتھ آ گئی ہو گی تو سو سو خط لکھا ہو گا

دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گی

جو تو بازار میں ہو گا تو یوسف کب بکا ہو گا

معیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کر

کوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہو گا

خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھا

گماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہو گا

قیامت کر کے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت

وہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہو گا

عجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کے

محبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہو گا

نہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانے

لہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہو گا

بہت ہمسائے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میں

کبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہو گا

نہیں جز عرش جاگہ راہ میں لینے کو دم اس کے

قفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہو گا

کہیں ہیں میرؔ کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں

کہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہو گا

Leave a Reply