Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghzalyat e Mir

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

قافلے میں صبح کے اک شور ہے

یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا

سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں

تخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا

یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیز

میرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا

Leave a Reply