Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazalyat e Mir

محبت کا جب روز بازار ہو گا

بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا

تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن

کبھی یہ قیامت طرحدار ہو گا

صبا موئے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے

کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہو گا

مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ

کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہو گا

نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں

نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہو گا

یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا

قیامت کو کس کس سے خوں دار ہو گا

عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل

ملے گا تو صورت سے بیزار ہو گا

نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں

ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہو گا

کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب

کبھو تو قیامت طرحدار ہو گا

زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن

یہ دیوار کا سایہ دیوار ہو گا

نہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا

ترے دام میں جو گرفتار ہو گا

نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاں

جو ہو گا تو جیسے گنہگار ہو گا

Leave a Reply