Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazalyat e Mir

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا

یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت

زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا

تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے

جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا

میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی

آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا

غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے

بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا

مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی

گو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا

عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گذری

بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا

دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر

بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا

کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے

قید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا

Leave a Reply