Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazalyat e Mir

نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا

کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا

رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بھل ہم بھی

شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا

رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نے

گلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا

بتاں کی میرؔ ستم وہ نگاہ ہے جس نے

خدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا

Leave a Reply