Ghalyat e ghalib
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazalyat e Ghalib

 

وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے

صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے

بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر

آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی 

ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری

تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا

ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

ق

سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی

رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے

یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات

عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے

نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو

خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

 

Leave a Reply

%d bloggers like this: