Blog Poetry

عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی

عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
میری وحشت، تِری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ، تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے، توعداوت ہی سہی

میرے ہونے میں، ہے کیا رُسوائی؟
اے، وہ مجلس نہیں، خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو، جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق، مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے، اے فلکِ نا انصاف
آہ وفریاد کی رُخصت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جاے، اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی​

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started