Ghalyat e ghalib
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Ghalib

 

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

میری  وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ تعلّق ہم سے

کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی

اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے

غیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو

آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام

دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں

نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصاف

آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے

بے نیازی تری عادت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ

گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

Leave a Reply