Literature

Ghazlyat e Ghalib

Spread the love

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

ہم کو فریاد کرنی آتی ہے

آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے

ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب

توبہ توبہ خدا خدا کیجے

رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہو گی

پہلے دل درد آشنا کیجے

عرضِ شوخی نشاطِ عالم ہے

حسن کو اور خود نما کیجے

دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفا

اب حقِ دوستی ادا کیجے

موت آتی نہیں کہیں غالبؔ

کب تک افسوس زیست کا کیجے

Leave a Reply

%d bloggers like this: