Blog Poetry

میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی

میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی

تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی

غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ

ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہوا اور سہی

تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے

تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی

حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی

آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی

تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا

کعبہ ایک اور سہی قبلہ نما اور سہی

کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ

خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی

کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملالیں یارب

سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں

زہر کچھ اور سہی آب بقا اور سہی

مجھ سے غالبؔ یہ علائی نے غزل لکھوائی

ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started