love and laughter
Literature

پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا

Spread the love

پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا

اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا

کیا جانیں ہم اسیر قفس زاد اے نسیم

گل کیسے باغ کہتے ہیں کس کو بہار کیا

آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید

پھر اور کوئی اس کا کرے انتظار کیا

سیکھی ہے طرح سینہ فگاری کی سب مری

لائے تھے ساتھ چاک دل ایسا انار کیا

سرکش کسو سے ایسی کدورت رکھے وہ شوخ

ہم اس کی خاک راہ ہیں ہم سے غبار کیا

نے وہ نگہ چبھی ہے نہ وے پلکیں گڑ گئیں

کیا جانیے کہ دل کو ہے یہ خار خار کیا

لیتا ہے ابر اب تئیں اس ناحیے سے آب

روئے ہیں ہم بھی برسوں تئیں زار زار کیا

عاشق کے دل سے رکھ نہ تسلی کی چشم داشت

ہے برق پارہ یہ اسے آوے قرار کیا

صحبت رہی بگڑتی ہی اس کینہ ور سے آہ

ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہوتا ہے پیار کیا

مارا ہو ایک دو کو تو ہو مدعی کوئی

کشتوں کا اس کے روز جزا میں شمار کیا

مدت سے جرگہ جرگہ سرتیر ہیں غزال

کم ہو گیا ہے یاروں کا ذوق شکار کیا

پاتے ہیں اپنے حال میں مجبور سب کو ہم

کہنے کو اختیار ہے پر اختیار کیا

آخر زمانہ سازی سے کھویا نہ وقر میرؔ

یہ اختیار تم نے کیا روزگار کیا

Leave a Reply

%d bloggers like this: