Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم

آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن

ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ

جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں

کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا

جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے

کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا

Leave a Reply