Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے

پھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے

مارا ہے کس کو ظالم اس بے سلیقگی سے

دامن تمام تیرا لوہو میں بھر رہا ہے

پہنچا تھا تیغ کھینچے مجھ تک جو بولے دشمن

کیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے

آنے کہا ہے میرے خوش قد نے رات گذرے

ہنگامۂ قیامت اب صبح پر رہا ہے

چل ہم نشیں کہ دیکھیں آوارہ میرؔ کو ٹک

خانہ خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے

Leave a Reply