Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

زنہار اگر خستہ دلاں بے ستوں جاؤ

ٹک پاس ہنرمندی فرہاد کرو گے

غیروں پہ اگر کھینچو گے شمشیر تو خوباں

اک اور مری جان پہ بیداد کرو گے

جاگہ نہیں یاں رویئے جس پر نہ کھڑے ہو

کچھ شور ہی شر پر تو مجھے یاد کرو گے

اس دشت میں اے راہرواں ہر قدم اوپر

مانند جرس نالہ و فریاد کرو گے

گر دیکھو گے تم طرز کلام اس کی نظر کر

اے اہل سخن میرؔ کو استاد کرو گے

Leave a Reply