Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

یارب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے

پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے

اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد

یہ باؤ کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے

صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے

کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے

پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا

شرمندۂ یک گوشۂ دستار نہ ہووے

مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم

یارب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے

کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی

صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے

ق

ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن

بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے

خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو

بے جرم کہیں ان کا گنہگار نہ ہووے

باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو

یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے

چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو

پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے

صحرائے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میرؔ

یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے

Leave a Reply