Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

نہیں وہ قید الفت میں گرفتاری کو کیا جانے

تکلف برطرف بے مہر ہے یاری کو کیا جانے

وہی اک مندرس نالہ مبارک مرغ گلشن کو

وہ اس ترکیب نو کی نالہ و زاری کو کیا جانے

پڑے آسودگان خاک چونکو شور محشر سے

مرا جو کوئی بے خود ہے وہ ہشیاری کو کیا جانے

ستم ہے تیری خوے خشمگیں پر ٹک بھی دلجوئی

دل آزاری کی باتیں کر تو دلداری کو کیا جانے

گلہ اپنی جفا کا سن کے مت آزردہ ہو ظالم

نہیں تہمت ہے تجھ پر تو جفا کاری کو کیا جانے

پریشاں فوج فوج لخت دل نکلے ہے آنکھوں سے

نپٹ ناداں ہے………………

ترا ابرام اس کی سادگی پر میرؔ میں مانا

بھلا ایسا جو ناداں ہو وہ عیاری کو کیا جانے

Leave a Reply