Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ہم تو مطرب پسرکے جاتے ہیں

گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں

خاک میں لوٹتے تھے کل تجھ بن

آج لوہو میں ہم نہاتے ہیں

اے عدم ہونے والو تم تو چلو

ہم بھی اب کوئی دم میں آتے ہیں

ایک کہتا ہوں میں تو منھ پہ رقیب

تیری پشتی سے سو سناتے ہیں

ق

دیدہ و دل کا کیا کیا تھا میں

روز آفت جو مجھ پہ لاتے ہیں

کوئی رووے ہے کوئی تڑپے ہے

کیا کروں میرے گھر سے آتے ہیں

ورنہ میں میرؔ ہوں مرے آگے

دشت غم بھی نہ ٹکنے پاتے ہیں

کھود گاڑوں زمیں میں دونوں کو

گرچہ یہ آسماں پہ جاتے ہیں

دیدہ و دل شتاب گم ہوں میرؔ

سر پہ آفت ہمیشہ لاتے ہیں

Leave a Reply