passion
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

دل دفعتہً جنوں کا مہیا سا ہو گیا

دیکھی کہاں وہ زلف کہ سودا سا ہو گیا

ٹک جوش سا اٹھا تھا مرے دل سے رات کو

دیکھا تو ایک پل ہی میں دریا سا ہو گیا

بے رونقی باغ ہے جنگل سے بھی پرے

گل سوکھ تیرے ہجر میں کانٹا سا ہو گیا

جلوہ ترا تھا جب تئیں باغ و بہار تھا

اب دل کو دیکھتے ہیں تو صحرا سا ہو گیا

کل تک تو ہم وے ہنستے چلے آئے تھے یوں ہی

مرنا بھی میرؔ جی کا تماشا سا ہو گیا

Leave a Reply

%d bloggers like this: