Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا

دس دن جو ہے یہ مہلت سو یاں دہا رہے گا

برقع اٹھے پہ اس کے ہو گا جہان روشن

خورشید کا نکلنا کیونکر چھپا رہے گا

اک وہم سی رہی ہے اپنی نمود تن میں

آتے ہو اب تو آؤ پھر ہم میں کیا رہے گا

مذکور یار ہم سے مت ہم نشیں کیا کر

دل جو بجا نہیں ہے پھر اس میں جا رہے گا

اس گل بغیر جیسے ابر بہار عاشق

نالاں جدا رہے گا روتا جدا رہے گا

دانستہ ہے تغافل غم کہنا اس سے حاصل

تم درد دل کہو گے وہ سر جھکا رہے گا

اب جھمکی اس کی تم نے دیکھی کبھو جو یارو

برسوں تلک اسی میں پھر دل سدا رہے گا

کس کس کو میرؔ ان نے کہہ کر دیا ہے بوسہ

وہ ایک ہے مفتن یوں ہی چُما رہے گا

Leave a Reply