Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

اس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھاوے

کام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا

جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کی

آوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا

لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرے

کار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا

لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئی

وقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا

یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سے

پژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا

ق

مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویں

خوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا

یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا شمع

یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا

افسوس میرؔ وے جو ہونے شہید آئے

پھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا

Leave a Reply