Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

دل جو زیر غبار اکثر تھا

کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن

رات دن ہم تھے اور بستر تھا

سرسری تم جہان سے گذرے

ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم

یہ ہمارا بھی ناز پرور تھا

بعد یک عمر جو ہوا معلوم

دل اس آئینہ رو کا پتھر تھا

بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ

کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا

کیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا

جب تلک عہد دیدۂ تر تھا

اب خرابہ ہوا جہان آباد

ورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا

ق

بے زری کا نہ کر گلہ غافل

رہ تسلی کہ یوں مقدر تھا

اتنے منعم جہان میں گذرے

وقت رحلت کے کس کنے زر تھا

صاحب جاہ و شوکت و اقبال

اک ازاں جملہ اب سکندر تھا

تھی یہ سب کائنات زیر نگیں

ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا

لعل و یاقوت ہم زر و گوہر

چاہیے جس قدر میسر تھا

آخر کار جب جہاں سے گیا

ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا

عیب طول کلام مت کریو

کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا

خوش رہا جب تلک رہا جیتا

میرؔ معلوم ہے قلندر تھا

Leave a Reply