Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں

تا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں

متصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دل

ایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں

وقت خوش ان کا جو ہم بزم ہیں تیرے ہم تو

در و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں

جائے گی طاقت پا آہ تو کریے گا کیا

اب تو ہم حال کبھو تم کو دکھا جاتے ہیں

ایک بیمار جدائی ہوں میں آپھی تس پر

پوچھنے والے جدا جان کو کھا جاتے ہیں

غیر کی تیغ زباں سے تری مجلس میں تو ہم

آ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں

عرض وحشت نہ دیا کر تو بگولے اتنی

اپنی وادی پہ کبھو یار بھی آ جاتے ہیں

میرؔ صاحب بھی ترے کوچے میں شب آتے ہیں لیک

جیسے دریوزہ گری کرنے گدا جاتے ہیں

Leave a Reply