Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

کیا جو عرض کہ دل سا شکار لایا ہوں

کہا کہ ایسے تو میں مفت مار لایا ہوں

کہے تو نخل صنوبر ہوں اس چمن میں میں

کہ سر سے پاؤں تلک دل ہی بار لایا ہوں

جہاں میں گریہ نہ پہنچا بہم مجھے دلخواہ

پہ نوحؑ کے سے تو طوفاں ہزار لایا ہوں

نہ تنگ کر اسے اے فکر روزگار کہ میں

دل اس سے دم کے لیے مستعار لایا ہوں

کسی سے مانگا ہے میں آج تک کہ جی لیوے

یہ احتیاج تجھی تک اے یار لایا ہوں

پھر اختیار ہے آگے ترا یہ ہے مجبور

کہ دل کو تجھ تئیں بے اختیار لایا ہوں

یہ جی جو میرے گلے کا ہے ہار تو ہی لے

ترے گلے کے لیے میں یہ ہار لایا ہوں

چلا نہ اٹھ کے وہیں چپکے چپکے پھر تو میرؔ

ابھی تو اس کی گلی سے پکار لایا ہوں

Leave a Reply