Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

سوزش دل سے مفت گلتے ہیں

داغ جیسے چراغ جلتے ہیں

اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم

بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں

بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں

جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں

دم آخر ہے بیٹھ جا مت جا

صبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں

تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں

ایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں

فتنہ درسر بتان حشر خرام

ہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں

نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں

سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں

اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ

سانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں

تھے جو اغیار سنگ سینے کے

اب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں

شمع رو موم کے بنے ہیں مگر

گرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں

میرؔ صاحب کو دیکھیے جو بنے

اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں

Leave a Reply