Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

بے کلی بے خودی کچھ آج نہیں

ایک مدت سے وہ مزاج نہیں

درد اگر یہ ہے تو مجھے بس ہے

اب دوا کی کچھ احتیاج نہیں

ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن

مرض عشق کا علاج نہیں

شہر خوبی کو خوب دیکھا میرؔ

جنس دل کا کہیں رواج نہیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: