heart
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک

شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

خانۂ دل سے زینہار نہ جا

کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے

نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا

شور اک آسماں سے اٹھتا ہے

لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں

ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے

سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز

دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے

بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو

جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم

جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: