Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

عام حکم شراب کرتا ہوں

محتسب کو کباب کرتا ہوں

ٹک تو رہ اے بنائے ہستی تو

تجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں

بحث کرتا ہوں ہو کے ابجد خواں

کس قدر بے حساب کرتا ہوں

کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبث

تشنگی پر عتاب کرتا ہوں

سر تلک آب تیغ میں ہوں غرق

اب تئیں آب آب کرتا ہوں

جی میں پھرتا ہے میرؔ وہ میرے

جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں

Leave a Reply