Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے

دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے

پاس ناموس عشق تھا ورنہ

کتنے آنسو پلک تک آئے تھے

وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو

زخم چھاتی کے سب دکھائے تھے

اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں

یاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے

کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے

کس توقع پہ دل لگائے تھے

فرصت زندگی سے مت پوچھو

سانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے

میرؔ صاحب رلا گئے سب کو

کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے

Leave a Reply