Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

رویا کیے ہیں غم سے ترے ہم تمام شب

پڑتی رہی ہے زور سے شبنم تمام شب

رکنے سے دل کے آج بچا ہوں تو اب جیا

چھاتی ہی میں رہا ہے مرا دم تمام شب

یہ اتصال اشک جگر سوز کا کہاں

روتی ہے یوں تو شمع بھی کم کم تمام شب

ق

شکوہ عبث ہے میرؔ کہ کڑھتے ہیں سارے دن

یا دل کا حال رہتا ہے درہم تمام شب

گذرا کسے جہاں میں خوشی سے تمام روز

کس کی گئی زمانے میں بے غم تمام شب

Leave a Reply