Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

بہت ہی اپنے تئیں ہم تو خوار پاتے ہیں

وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں

تری گلی میں میں رویا تھا دل جلا یک شب

ہنوز واں سے دل داغدار پاتے ہیں

نہ ہوویں شیفتہ کیوں اضطراب پر عاشق

کہ جی کو کھو کے دل بے قرار پاتے ہیں

گلہ عبث ہے تری آستانہ بوسی کا

مسیح و خضر بھی واں کم ہی بار پاتے ہیں

ق

تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے

غزال دشت نشان مزار پاتے ہیں

وگرنہ خاک ہوئے کتنے ہی محبت میں

کسی کا بھی کہیں مشت غبار پاتے ہیں

شتابی آوے اجل میرؔ جاوے یہ رونا

کہ میرے شور سے تصدیع یار پاتے ہیں

Leave a Reply