Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں

نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں

جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد

ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں

گہے داغ رہتا ہے دل گہ جگر خوں

ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں

اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم

ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں

لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو

گہے کاغذ و گہ قلم دیکھتے ہیں

وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ

اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں

کہاں تک بھلا روؤ گے میرؔ صاحب

اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: