Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں

جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں

دوزخ کیا ہے سینہ مرا سوز عشق سے

اس دل جلے ہوئے کے سبب ہوں عذاب میں

مت کر نگاہ خشم یہی موت ہے مری

ساقی نہ زہر دے تو مجھے تو شراب میں

بیدار شور حشر نے سب کو کیا ولے

ہیں خون خفتہ اس کے شہیدوں کے خواب میں

دل لے کے رو بھی ٹک نہیں دیتے کہیں گے کیا

خوبان بد معاملہ یوم الحساب میں

جا کر در طبیب پہ بھی میں گرا ولے

جز آہ ان نے کچھ نہ کیا میرے باب میں

ق

عیش و خوشی ہے شیب میں ہو گو پہ وہ کہاں

لذت جو ہے جوانی کے رنج و عتاب میں

دیں عمر خضر موسم پیری میں تو نہ لے

مرنا ہی اس سے خوب ہے عہد شباب میں

ق

آ نکلے تھے جو حضرت میرؔ اس طرف کہیں

میں نے کیا سوال یہ ان کی جناب میں

حضرت سنو تو میں بھی تعلق کروں کہیں

فرمانے لاگے روکے یہ اس کے جواب میں

تو جان لیک تجھ سے بھی آئے جو کل تھے یاں

ہیں آج صرف خاک جہان خراب میں

Leave a Reply