LAST LINES
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا

زیر لب جب کچھ کہا وہ مر گیا

تڑپے زیر تیغ ہم بے ڈول آہ

دامن پاک اس کا خوں میں بھر گیا

خاک ہے پکڑے اگر سونا بھی پھر

ہاتھ سے جس کے وہ سیمیں بر گیا

کیا بندھا ہے اس کے کوچے میں طلسم

پھر نہ آیا جو کوئی اودھر گیا

خانداں اس بن ہوئے کیا کیا خراب

آج تک وہ شوخ کس کے گھر گیا

ابرو و مژگاں ہی میں کاٹی ہے عمر

کیا سنان و تیغ سے میں ڈر گیا

کہتے ہیں ضائع کیا اپنے تئیں

میرؔ تو دانا تھا یہ کیا کر گیا

Leave a Reply

%d bloggers like this: