Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

نہ پڑھا خط کو یا پڑھا قاصد

آخرکار کیا کہا قاصد

کوئی پہنچا نہ خط مرا اس تک

میرے طالع ہیں نارسا قاصد

سر نوشت زبوں سے زر ہو خاک

راہ کھوٹی نہ کر تو جا قاصد

گر پڑا خط تو تجھ پہ حرف نہیں

یہ بھی میرا ہی تھا لکھا قاصد

یہ تو رونا ہمیشہ ہے تجھ کو

پھر کبھو پھر کبھو بھلا قاصد

ق

اب غرض خامشی ہی بہتر ہے

کیا کہوں تجھ سے ماجرا قاصد

شب کتابت کے وقت گریے میں

جو لکھا تھا سو بہ گیا قاصد

کہنہ قصہ لکھا کروں تاکے

بھیجا کب تک کروں نیا قاصد

ہے طلسمات اس کا کوچہ تو

جو گیا سو وہیں رہا قاصد

باد پر ہے برات جس کا جواب

اس کو گذرے ہیں سالہا قاصد

نامۂ میرؔ کو اڑاتا ہے

کاغذ باد گر گیا قاصد

Leave a Reply