Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

خیال چھوڑ دے واعظ تو بے گناہی کا

رکھے ہے شوق اگر رحمت الٰہی کا

سیاہ بخت سے میرے مجھے کفایت تھی

لیا ہے داغ نے دامن عبث سیاہی کا

نگہ تمام تو اس کی خدا نہ دکھلاوے

کرے ہے قتل اثر جس کی کم نگاہی کا

کسو کے حسن کے شعلے کے آگے اڑتا ہے

سلوک میرؔ سنو میرے رنگ کاہی کا

Leave a Reply