Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

وہ جو پی کر شراب نکلے گا

کس طرح آفتاب نکلے گا

محتسب میکدے سے جاتا نہیں

یاں سے ہو کر خراب نکلے گا

یہی چپ ہے تو درد دل کہیے

منھ سے کیونکر جواب نکلے گا

جب اٹھے گا جہان سے یہ نقاب

تب ہی اس کا حجاب نکلے گا

عرق اس کے بھی منھ کا بو کیجو

گر کبھو یہ گلاب نکلے گا

آؤ بالیں تلک نہ ہو گی دیر

جی ہمارا شتاب نکلے گا

دفتر داغ ہے جگر اس بن

کسو دن یہ حساب نکلے گا

تذکرے سب کے پھر رہیں گے دھرے

جب مرا انتخاب نکلے گا

میرؔ دیکھو گے رنگ نرگس کا

اب جو وہ مست خواب نکلے گا

Leave a Reply