Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا

کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا

چشم بن اشک ہوئی یا نہ ہوئی یکساں ہے

خاک میں جب وہ ملا موتی کا دانہ ہی گیا

بر مجنوں میں خردمند کوئی جا نہ سکا

عاقبت سر کو قدم کر یہ دوانہ ہی گیا

ہم اسیروں کو بھلا کیا جو بہار آئی نسیم

عمر گذری کہ وہ گلزار کا جانا ہی گیا

جی گیا میرؔ کا اس لیت و لعل میں لیکن

نہ گیا ظلم ہی تیرا نہ بہانہ ہی گیا

Leave a Reply