Classic,  Literature

Ghazalyat e Mir

 

سحرگہ عید میں دور سبو تھا

پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا

 

غلط تھا آپ سے غافل گذرنا

نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا

 

چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ

کہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا

 

گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا

جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا

 

کرو گے یاد باتیں تو کہو گے

کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا

 

جہاں پر ہے فسانے سے ہمارے

دماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا

 

مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا

کہ پیراہن میں سو جاگہ رفو تھا

 

کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے

کہ جھونکا باؤ کا کچھ مشک بو تھا

 

نہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکن

غبار اک ناتواں سا کو بکو تھا

 

Leave a Reply