Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

جو اس شور سے میر روتا رہے گا

تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوں

جسے ابر ہر سال روتا رہے گا

مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصح

تو کب تک مرے منھ کو دھوتا رہے گا

بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں

کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا

مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے

جرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا

تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دے

ہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا

بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کو

تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا

Leave a Reply

%d bloggers like this: