Ghazlyat e Mir taqi mir
Classic,  Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا

عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا

کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے

چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا

آنکھیں چرائیو نہ ٹک ابر بہار سے

میری طرف بھی دیدۂ خونبار دیکھنا

اے ہم سفر نہ آبلے کو پہنچے چشم تر

لاگا ہے میرے پاؤں میں آ خار دیکھنا

ہونا نہ چار چشم دل اس ظلم پیشہ سے

ہشیار زینہار خبردار دیکھنا

صیاد دل ہے داغ جدائی سے رشک باغ

تجھ کو بھی ہو نصیب یہ گلزار دیکھنا

گر زمزمہ یہی ہے کوئی دن تو ہم صفیر

اس فصل ہی میں ہم کو گرفتار دیکھنا

بلبل ہمارے گل پہ نہ گستاخ کر نظر

ہو جائے گا گلے کا کہیں ہار دیکھنا

شاید ہماری خاک سے کچھ ہو بھی اے نسیم

غربال کر کے کوچۂ دلدار دیکھنا

اس خوش نگہ کے عشق سے پرہیز کیجو میرؔ

جاتا ہے لے کے جی ہی یہ آزار دیکھنا

Leave a Reply