growth
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا

رونا مرا سنو گے کہ طوفان کر رہا

شب میکدے سے وارد مسجد ہوا تھا میں

پر شکر ہے کہ صبح تئیں بے خبر رہا

مل جس سے ایک بار نہ پھر تو ہوا دوچار

رک رک کے وہ ستم زدہ ناچار مر رہا

تسکین دل ہو تب کہ کبھو آ گیا بھی ہو

برسوں سے اس کا آنا یہی صبح پر رہا

اس زلف و رخ کو بھولے مجھے مدتیں ہوئیں

لیکن مرا نہ گریۂ شام و سحر رہا

رہتے تو تھے مکاں پہ ولے آپ میں نہ تھے

اس بن ہمیں ہمیشہ وطن میں سفر رہا

اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ پوچھے ہے بار بار

کچھ وجہ بھی کہ آپ کا منھ ہے اتر رہا

اک دم میں یہ عجب کہ مرے سر پہ پھر گیا

جو آب تیغ برسوں تری تا کمر رہا

کاہے کو میں نے میرؔ کو چھیڑا کہ ان نے آج

یہ درد دل کہا کہ مجھے درد سر رہا

Leave a Reply

%d bloggers like this: