Blog Poetry

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا
رونا مرا سنو گے کہ طوفان کر رہا
شب میکدے سے وارد مسجد ہوا تھا میں
پر شکر ہے کہ صبح تئیں بے خبر رہا
مل جس سے ایک بار نہ پھر تو ہوا دوچار
رک رک کے وہ ستم زدہ ناچار مر رہا
تسکین دل ہو تب کہ کبھو آ گیا بھی ہو
برسوں سے اس کا آنا یہی صبح پر رہا
اس زلف و رخ کو بھولے مجھے مدتیں ہوئیں
لیکن مرا نہ گریۂ شام و سحر رہا
رہتے تو تھے مکاں پہ ولے آپ میں نہ تھے
اس بن ہمیں ہمیشہ وطن میں سفر رہا
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ پوچھے ہے بار بار
کچھ وجہ بھی کہ آپ کا منھ ہے اتر رہا
اک دم میں یہ عجب کہ مرے سر پہ پھر گیا
جو آب تیغ برسوں تری تا کمر رہا
کاہے کو میں نے میرؔ کو چھیڑا کہ ان نے آج
یہ درد دل کہا کہ مجھے درد سر رہا

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started