Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

وہ شوخ ہم کو پاؤں تلے ہے ملا کیا

اس دل نے کس بلا میں ہمیں مبتلا کیا

چھاتی کبھو نہ ٹھنڈی کی لگ کر گلے سے آہ

دل اس سے دور سینے میں اکثر جلا کیا

کس وقت شرح حال سے فرصت ہمیں ہوئی

کس دن نیا نہ قاصد ادھر سے چلا کیا

ہم تو گمان دوستی رکھتے تھے پر یہ دل

دشمن عجب طرح کا بغل میں پلا کیا

کیا لطف ہے جیے جو برے حال کوئی میرؔ

جینے سے تو نے ہاتھ اٹھایا بھلا کیا

Leave a Reply