Blog Poetry

اس دل نے کس بلا میں ہمیں مبتلا کیا

وہ شوخ ہم کو پاؤں تلے ہے ملا کیا
اس دل نے کس بلا میں ہمیں مبتلا کیا
چھاتی کبھو نہ ٹھنڈی کی لگ کر گلے سے آہ
دل اس سے دور سینے میں اکثر جلا کیا
کس وقت شرح حال سے فرصت ہمیں ہوئی
کس دن نیا نہ قاصد ادھر سے چلا کیا
ہم تو گمان دوستی رکھتے تھے پر یہ دل
دشمن عجب طرح کا بغل میں پلا کیا
کیا لطف ہے جیے جو برے حال کوئی میرؔ
جینے سے تو نے ہاتھ اٹھایا بھلا کیا

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started