flower
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

بہتوں کو آگے تھا یہی آزار عشق کا

جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا

بے پردگی بھی چاہ کا ہوتا ہے لازمہ

کھلتا ہی ہے ندان یہ اسرار عشق کا

زندانی سینکڑوں مرے آگے رہا ہوئے

چھوٹا نہ میں ہی تھا جو گنہگار عشق کا

خواہان مرگ میں ہی ہوا ہوں مگر نیا

جی بیچے ہی پھرے ہے خریدار عشق کا

منصور نے جو سر کو کٹایا تو کیا ہوا

ہر سر کہیں ہوا ہے سزاوار عشق کا

جاتا وہی سنا ہمہ حسرت جہان سے

ہوتا ہے جس کسو سے بہت پیار عشق کا

پھر بعد میرے آج تلک سر نہیں بکا

اک عمر سے کساد ہے بازار عشق کا

لگ جاوے دل کہیں تو اسے جی میں اپنے رکھ

رکھتا نہیں شگون کچھ اظہار عشق کا

چھوٹا جو مر کے قید عبارات میں پھنسا

القصہ کیا رہا ہو گرفتار عشق کا

ق

مشکل ہے عمر کاٹنی تلوار کے تلے

سر میں خیال گو کہ رکھیں یار عشق کا

واں رستموں کے دعوے کو دیکھا ہے ہوتے قطع

پورا جہاں لگا ہے کوئی وار عشق کا

کھوئے رہا نہ جان کو نا آزمودہ کار

ہوتا نہ میرؔ کاش طلبگار عشق کا

Leave a Reply

%d bloggers like this: