Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا

شکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا

قاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرور

جاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا

وہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سے

نکلے ہے کوئی لخت دل اب سو جلا ہوا

حیران رنگ باغ جہاں تھا بہت رکا

تصویر کی کلی کی طرح دل نہ وا ہوا

عالم کی بے فضائی سے تنگ آ گئے تھے ہم

جاگہ سے دل گیا جو ہمارا بجا ہوا

درپے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے

انجام کار مدعی کا مدعا ہوا

اس کے گئے پہ دل کی خرابی نہ پوچھیے

جیسے کسو کا کوئی نگر ہو لٹا ہوا

بدتر ہے زیست مرگ سے ہجران یار میں

بیمار دل بھلا نہ ہوا تو بھلا ہوا

کہتا تھا میرؔ حال تو جب تک تو تھا بھلا

کچھ ضبط کرتے کرتے ترا حال کیا ہوا

Leave a Reply