Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

چاہتے ہیں یہ بتاں ہم پہ کہ بیداد کریں

کس کے ہوں کس سے کہیں کس کنے فریاد کریں

ایک دم پر ہے بنا تیری سو آیا کہ نہیں

وہ کچھ اس زندگی میں کر کہ تجھے یاد کریں

کعبہ ہوتا ہے دوانوں کا مری گور سے دشت

مجھ سے دو اور گڑیں یاں تو سب آباد کریں

ہم تو راہب نہیں ہیں واقف رسم سجدہ

ہیں کدھر شیخ حرم کچھ ہمیں ارشاد کریں

ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کرو

چاہیے اہل سخن میرؔ کو استاد کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: