YOUNG WERTHER
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

دن کو نہیں ہے چین نہ ہے خواب شب مجھے

مرنا پڑا ضرور ترے غم میں اب مجھے

ہنگامہ میری نعش پہ تیری گلی میں ہے

لے جائیں گے جنازہ کشاں یاں سے کب مجھے

ٹک داد میری اہل محلہ سے چاہیو

تجھ بن خراب کرتے رہے ہیں یہ سب مجھے

طوفاں بجائے اشک ٹپکتے تھے چشم سے

اے ابر تر دماغ تھا رونے کا جب مجھے

دو حرف اس کے منھ کے تو لکھ بھیجیو شتاب

قاصد چلا ہے چھوڑ کے تو جاں بلب مجھے

کچھ ہے جواب جو میں کروں حشر کو سوال

مارا تھا تو نے جان سے کہہ کس سبب مجھے

غیراز خموش رہنے کہ ہونٹوں کے سوکھنے

لیکن نہیں ہے یار جھگڑنے کا ڈھب مجھے

پوچھا تھا راہ جاتے کہیں ان نے میرؔ کو

آتا ہے اس کی بات کا اب تک عجب مجھے

Leave a Reply

%d bloggers like this: