poem
Literature

Ghazlyat e Mir

Spread the love

کاتب کہاں دماغ جو اب شکوہ ٹھانیے

بس ہے یہ ایک حرف کہ مشتاق جانیے

غیروں کا ساتھ موجب صد وہم ہے بتاں

اس امر میں خدا بھی کہے تو نہ مانیے

شب خواب کا لباس ہے عریاں تنی میں یہ

جب سویئے تو چادر مہتاب تانیے

ق

اپنا یہ اعتقاد ہے تجھ جستجو میں یار

لے اس سرے سے اس سرے تک خاک چھانیے

پھر یا نصیب یہ بھی ہے طالع کی یاوری

مر جائیں ہم تو اس پہ بھی ہم کو نہ جانیے

لوٹے ہے خاک و خون میں غیروں کے ساتھ میرؔ

ایسے تو نیم کشتہ کو ان میں نہ سانیے

Leave a Reply

%d bloggers like this: